کیپٹن (ر)محمد صفدر اپنے بیان سے مکر گئے

کیپٹن (ر)محمد صفدر اپنے بیان سے مکر گئے


اسلام آباد( 24نیوز )نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر آج پھر احتساب عدالت پیش ہوگئے ۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں، نامزد ملزمان نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی ۔

گزشتہ روز کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ب128میں سے اسی سوالات کے جوابات دیے ۔ احتساب عدالت کو دئیے گئے بیان میں تمام معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا، بتایا کہ مریم نواز کو نیلسن اور نیسکول کا ٹرسٹی بنایا گیا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس سے غیر متعلقہ ہے اس لیے اسے شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

 یہ بھی پڑھیں: کل حکومت کا آخری دن

گزشتہ روز ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اسی سوالوں کے جواب دئیے۔ نواز شریف صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، لیکن حاضری کے بعد عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دیدی۔کیپٹن صفدر نے کہا کہ زیادہ تر سوالوں کو خود سے غیر متعلقہ قرار دے دیا،کہا جے آئی ٹی نے مریم نواز کے سامنے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں سیل نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے 8 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

کپیٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہاکہ نواز شریف کے پارلیمنٹ سے خطاب، قطری خط،حسن، حسین اور مریم نواز کے ٹی وی انٹرویوز، شیزی نقوی اور طارق شفیع کے بیان حلفی، موزیک فونسیکا اور سامبا بینک کے خطوط سے کوئی تعلق نہیں۔

وقفے کے دوران کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ خود چاہتے تھے کہ کوئی بھی لیگی رہنما کمرہ عدالت میں موجود نہ ہو، اس وقت مجھ سے زیادہ میاں صاحب کو مریم کی ضرورت ہے، میرے ساتھ تو وہ پچیس سال سے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت بدھ کی صبح نو بجے تک ملتوی کردی،کل انہوں نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی میں ایسا ماحول تھا جیسے ہم جنگی قیدی ہوں۔