پی ٹی آئی نے کلثوم نواز کے حلف نہ اٹھانے پر توجیہات مانگ لیں

پی ٹی آئی نے کلثوم نواز کے حلف نہ اٹھانے پر توجیہات مانگ لیں


اسلام آباد(24 نیوز) تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ، کلثوم نواز کی جانب سے بطور رکن قومی اسمبلی حلف نہ اٹھانے کی آئینی و قانونی توجیہات مانگ لیں۔

تفصیلات کے مطابق خط مرکزی ترجمان فواد چودھری کی جانب سے تحریر کیا گیا ، فواد چودھری کا خط میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کی نا اہلی کے باعث این اے 120 میں ضمنی انتخاب کروایا گیا۔

 17 ستمبر کے انتخاب میں کلثوم نواز کامیاب قرار پائیں ، الیکشن کمیشن نے 27 ستمبر کو کلثوم نواز کی کامیابی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔

فواد چودھری کہتے ہیں ضمنی انتخاب کے انعقاد سے اب تک قومی اسمبلی کے تین اجلاس مکمل ہو چکے ہیں ، صدر مملکت اسمبلی کا چوتھا اجلاس طلب کر

چکے ہیں۔

انتخاب کے فوری بعد کامیاب امیدوار کی اسمبلی اجلاس میں شرکت اور بطور رکن حلف برداری قانونی تقاضا ہے ، فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کلثوم نواز اب تک یہ اہم قانون تقاضا پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

تقریبا تین ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کلثوم نواز کے حلف نہ اٹھانے سے 120 کے لاکھوں رائے دھندگان حق نمائندگی سے محروم ہیں ، چیف الیکشن کمشنر بتائیں کہ آئینی و قانونی طور پر ایک حلقے کے عوام کو انتخاب کے باوجود نمائندگی سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔

 خط میں لکھا گیا ہے انتخاب کے بعد رکنیت کے حلف کو کتنی دیر تک موخر کیا جا سکتا ہے۔ منتخب فرد کی جانب سے بوجوہ حلف نہ اٹھا سکنے کی صورت میں آئین اور قانون کا حکم کیا ہے۔

کیا آئینی و قانونی طور پر 120 کے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر از سرنو انتخاب کا اعلان ممکن ہے۔ کیا ایسا ضابطہ موجود ہے کہ کمیشن صحت مند امیدواروں کا انتخاب میں حصہ لینا یقینی بنا سکے۔

ان تمام نکات پر آئین و قانون کی منشاء واضح کرنا ضروری ہے تاکہ قوم بنیادی آئینی حقوق سے متعلق معاملے پر حقیقی صورت حال سے آگاہی حاصل کرسکے۔