نواز شریف اور شہباز شریف میں اختلاف کھل کر سامنے آگیا


لاہور (عمر اسلم):  قطری شہزادے کی لاہور  آمد  پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز  شریف اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان اختلاف ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا، چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم کو نوازشریف کی ہدایت پر پرسٹیٹ پروٹوکول دینے کا خط وفاقی حکومت نے جاری کیا ۔ اسی خط کی روشنی میں پنجاب حکومت نے بھی مہمان وفد کو پروٹوکول دینے کا حکم نامہ جاری کیا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام اعلیٰ افسروں کو قطری شہزادے کے استقبال سے منع کر دیا۔

اس پر بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سعید قاضی نے کہا کہ میں تو اس بات پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی حوصلہ افزائی کروں گا ,  کیونکہ قطری شہزادے کسی سرکاری دورے پر نہیں تھے ، نواز شریف کے جو بھی مطالبات ہیں شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وہ پارٹی کو اور بحرانوں کا شکار کر رہے ہیں جس سے شریف برادران میں دراڑ واضح ہو رہی ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شہباز شریف نے مزید تنقید سے بچنے کیلئے ایسا کیا ہو۔

سینئر  تجزیہ کار نسیم زہرہ نے24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  میری اطلاع کے مطابق قطری شہزادے کو ٹرمینل کے افتتاح کے لیے خود حکومت نے مدعو کیا، جب قطری شہزادے کو سپریم کورٹ نے بلایا تھا تب یہ نواز شریف کو بچانے نہیں آئے تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ قطری شہزادے نے یہ بھی کہا تھاکہ جے آئی ٹی کو بیان لینا ہے تو وہ قطر آئے اور میرے محل میں آکر بیان لے۔

واضح رہے کہ قطری شہزادے شیخ حمادبن جاسم کل اچانک پاکستان آئے اور شریف برادران سے ملاقات کی۔ ملاقات ختم ہونے کے بعد نوازشریف خود قطری شہزادے کو ماڈل ٹائون تک لے کر گئے، پروٹوکول نہ ملنے پر قطری شہزادے ٹریفک میں بھی پھنسے رہے۔