کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت دوسرے ہفتے تک ملتوی

کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت دوسرے ہفتے تک ملتوی


اسلام آباد(24نیوز): سپریم کورٹ میں کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت عدالت کا مندر کے قریب پابندی کے باوجود نئی فیکٹریاں لگانے پر تشویش کا اظہار ، عدالت کا متروکہ املاک وقف کی کارگردگی اور صدیق الفاروق کی تقریری پر بھی سوال اٹھا دیا ، حکومت پنجاب سے معاملے پر رپورٹ بھی طلب کرلی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کرپشن اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب ثنار کی سربراہی میں تین رکن بنچ نے کٹاس راج مندرا کی حالت زار سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد نے عدالت میں مندر سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ زیرزمین پانی کے استعمال سے سطح کم ہوئی ،وزیراعلی پنجاب نے نے نئی درخواستوں کی منظوری پر پابندی لگا دی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے رپورٹ پر ریمارکس دیے کہ یہ پابندی ہم لگارہے ہیں کہ نئی فیکٹریاں نہیں لگائی جائیں گی، حکومت ہمیشہ تاخیر سے فیصلہ کیوں کرتی ہے،سمینٹ فیکڑیوں نے پیداوار میں اضافہ کیا ہے، ہم کسی کوذمہ دار نہیں ٹھہرارہے لیکن یہ افسوسناک ہے۔ تزک بابری میں اس علاقے کو کشمیر سے تشبیح دی گئی ہے، فیکٹریاں لگانے میں غفلت کس نے کی، ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کیا گیا؟؟

جسٹس عمر عطابندیاں نے ریمارکس دیےکہ جب لیز کی تجدید ہوتی ہے اس وقت پیدوار بڑھانے سے متعلق کیوں نہیں پوچھاجاتا؟؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ثفاقی تاریخ پرسمجھوتانہیں کوسکتا، یہ بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔دوران سماعت مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رمیشن کمار نے کہا کہ متروکہ املاک کاچئیرمین اقلیت سے ہونا چاہیے، نواز شریف نے رانابھگوان داس کی جگہ صدیق الفاروق کوچئیرمین بنا دیا ہے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ چئیرمین متروکہ املاک صدیق الفاروق کدھرہیں ؟؟اگر کام نہیں کرسکتے تو انھیں نوکری سے کیوں نہ ہٹا دیا جائے۔ صدیق الفاروق کی ٹرسٹ کا چیرمین بننے کی اہلیت کیا ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس نے دیے کہ بطورمسلمان ہمارے حقوق ہیں تواقلیتوں کے بھی حقوق ہونے چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس ملک کا بدقسمتی سے بڑالمیہ کرپشن ہے، کرپشن سے ملکرمقابلہ کرناہے، عدالت نے حکومت پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وزیراعلی پنجاب خود ان معاملات دیکھیں۔ عدالت نے عدالت نے چکوال کے علاقہ کی سیمنٹ فیکٹریوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ سیمنٹ فیکٹریاں ماحولیاتی مسائل پراپنا موقف پیش کریں۔ کیس کی سماعت دسمبرکے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔