بسنت پر پابندی سے 4 لاکھ گھرانوں کا کاروبار تباہ ہوا


لاہور(24نیوز) بسنت پرپابندی سےلاہورکے لاکھوں خاندانوں کا روز گاربھی بوکاٹا ہوگیا،آسمان پرسفید پریاں اور گڈے بھی نہیں ناچتے، کمیکل ڈوربنانے اور بیچنے والے چند افراد کی وجہ سےشہری تفریح اور اربوں کے بزنس سے محروم ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بسنت کبھی لاہورکا رنگا رنگ اوربھرپور تہوار تھا۔ بسنت منانے کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے ہزاروں افراد کی آمد شہر کےلیے اربوں روپے کا بزنس بھی لاتی تھی۔خوب ہلہ گل ہوتا تھا۔ لاہور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق 2005 تک پتنگ سازی لاہور میں مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے سے زیادہ کی گھریلو اور کاٹج انڈسٹری بن چکی تھی جس سے 4 لاکھ سے زیادہ خاندان وابستہ تھے۔ ایک سال کے دوران پتنگ سازی کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ کی مالیت کا اندازہ 11 کروڑ ، ڈور اور چرخی وغیرہ کا 6 کروڑ اور پتنگ بنانے کی مزدوری اور دوسرے اخراجات کا اندازی 7 کروڑ روپے تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2005 تک بسنت کے موقع پر لاہور میں آنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی تھی۔اس کے باعث ہوٹلنگ، کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ اور دوسری کاروباری سرگرمیاں چند ہفتوں کے لیے کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔