افغانستان میں امریکہ بری طرح ناکام، سی آئی جی اے آر کی رپورٹ جاری

افغانستان میں امریکہ بری طرح ناکام، سی آئی جی اے آر کی رپورٹ جاری


کابل(24نیوز)امریکی فوج کی کارروائیاں افغان حکومت کے اپنے عوام پر کنٹرول کو بہتر بنانے میں ناکام ہیں۔ آئی جے آے آر کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا ہے ، گزشتہ سال 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ،جبکہ صرف اکتوبر کے مہینے میں افغانستان میں موجود 11 ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی فوج کی کارروائیاں افغان حکومت کے اپنے عوام پر کنٹرول کو بہتر بنانے میں  بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ افغانستان میں امن و امان سے متعلق سی آئی جی اے آر حالیہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ رپورٹ منگل کے روز امریکی کانگریس محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھیجی گئی۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

صرف اکتوبر کے مہینے میں افغانستان میں موجود 11 ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے۔

2017 میں بم حملوں کا ریکارڈ 2012 کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔منشیات پر کنٹرول کے لیے 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کی امداد کے باوجود پچھلے سال افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 87 فی صد اضافہ ہوا۔پوست کے زیر کاشت رقبے میں بھی 63 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ افغانستان میں امریکہ کے کنٹرول کے اضلاع کی تعداد کم ہورہی ہے۔ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔افغان صوبے فرح میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی سرکاری چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔سپا ہِیوں کا ہلاک کیا جانا تقریباً روز مرہ کا معمول ہے۔