”تم مجھے یوں بھلا نہ پاﺅ گے“محمد رفیع کو بچھڑے 38 برس بیت گئے

”تم مجھے یوں بھلا نہ پاﺅ گے“محمد رفیع کو بچھڑے 38 برس بیت گئے


لاہور( 24نیوز )تم مجھے یوں بھلا نہ پاﺅ گے،گلوکار محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے 38 برس بیت گئے ، لیکن برسوں بعد بھی وہ اپنے نغمات کی صورت میں زندہ ہیں۔

اکتیس جولائی 1980ءکو بھارت کے مایہ ناز گلوکار محمد رفیع اپنی ایک ریکارڈنگ کے بعد جلدی ہی گھر چلے گئے، جہاں دل کے

شدید دورے کے بعد وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔

محمد رفیع کا شاندار کیریئر 1940ءکے لگ بھگ شروع ہوا تھا اور جو چالیس سال تک موسیقی کے آسمان پر جگمگاتا رہا، ان کے مختلف زبانوں میں گائے گئے گیتوں کی تعداد کا اندازہ پچیس اور چونتیس ہزار کے درمیان لگایا جاتا ہے۔

محمد رفیع اپنے گاوں کی گلیوں میں پھرنے والے ایک فقیر کی نقل کرتے ہوئے گایا کرتے تھے،سات سال کی عمر سے ہی انہوں نے استاد بڑے غلام علی خاں اور استاد وحید خان سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی،انہوں نے بیس برس کی عمر میں فلم گل بلوچ کے لیے اپنا پہلا گیت پنجابی زبان میں ریکارڈ کروایا تھا،گوناگوں خوبیوں کی حامل آواز کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے سے اونچا یا دھیمے سے دھیما سر بھی سہولت کے ساتھ گا لیتے تھے۔

محمد رفیع کی طرح کے فنکار روز روز جنم نہیں لیتے۔ ان کے انتقال کے 38 برس بعد بھی پلے بیک گلوکاری میں ان کی طرح کا فنکار دور دور تک نظر نہیں آتا۔