"ڈر ہےنیاپاکستان والے کہیں کرنسی سے قائد اعظم کی تصویر ہٹا دیں"



سکھر (24نیوز)پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ حکومت پر برس پڑے،انہوں نے کہا کہ حکمران قرض لے کر شرماتے نہیں،مسکراتے ہیں، مہنگائی کا عذاب ہمارے گلے پڑ گیا ہے، روزگار دیں گےلیکن ہو کیا رہا ہے؟

تفصیلات کے مطابق رہنما پیپلزپارٹی کے رہنما  خورشید شاہ کا سکھر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان یہ کنٹینر نہیں ہے جہاں کھڑے ہوکر تم گالیاں دیتے تھے، ہم غلاظت کی سیاست نہیں کرنا چاہت، حکومت کو شرم آنی چاہیے بینطیر بھٹو کا نام ختم کررہے ہیں، عمران خان اگر تم نے بینطیر بھٹو کا نام ہٹایا تو ملک کی عوام خلاف ہوں گے،تم بینظیر کا نام ہٹانا چاہتے ہو مگر لوگوں کے دلوں سے کیسے نام ہٹاو گے؟ بی بی کا نام تا قیامت زندہ رہے گا، جس کی تاریخ خون سےلکھی جائے اس کا نام پانی سے نہیں مٹایا جاسکتا۔

 خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ مجھے تو ڈر ہے نئے پاکستان کے نام پر قومی کرنسی سے قائد اعظم کی تصویر ہی نہ ہٹا دیں،  اپوزیشن کہتی ہے آؤبیٹھو بات کرومہنگائی ،لوڈشیڈنگ ہے مگر عمران خان کہتے ہیں میں نہیں کروں گا، اگر آپ ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں تو صدام حسین کی طرح وردی پہن کر صدر بن جائیں، غلط پالیسیوں کے باعث مہنگائی کا عذاب ہمارے گلے میں ہے، حکومت بتائے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ گھر کہاں ہیں؟ آج کے حکمران قرضہ لیتے وقت شرماتے نہیں مسکراتے ہیں اور پھر شہنائیاں بجاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ2008 سے 2013 تک ماڈل اور بہترین حکومت تھی ،فیکٹ اور فگر کے ساتھ بات کرتا ہوں کوئی مائی کا لال آئے چیلنج کرے میں جواب دوں گا،زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدار زیادہ ہے،یہ پانی پی کر اکثر لوگ بیمار ہو رہے ہیں،پیپلز پارٹی کے حکومت چاہ رہی ہے کہ لوگوں کو نہری نظام کے ذریعے پر پینے اور زراعت کے لیے پانی فراہم کریں،مختلف سکیموں کے ذریعے پنوعاقل کے ایک لاکھ افراد کو پینے کے لئے پانی فراہم کریں گے، ان کا مزید کہنا تھاکہ ریاست کو چلانے کیلئے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 73 کا آئین دیااس آئین کے تحت ریاست چلے گی، اس عوامی اجتماع کے ذریعے ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو سوچتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔

علاوہ ازیں میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما کاکہناتھاکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، میڈیا روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو شعور فراہم کرتا ہے۔